CapitalTV; What's the reality of Durand Line?Baylaag 20 March 2018

  • 🎬 Video
  • ℹ️ Description
Invalid campaign token '7mSKfTYh8S4wP2GW'
CapitalTV; What's the reality of Durand Line?Baylaag 20 March 2018 3.5
What's the reality of Durand Line? Listen Jumma Khan Sufi's analysis in Baylaag with Ejaz Haider
Baylaag with Ejaz Haider 20 March 2018

Download — CapitalTV; What's the reality of Durand Line?Baylaag 20 March 2018

Download video
💬 Comments on the video
Author

اللہ کے قسم یے پوکیستان نھے ریھنگہ. ایک دن. یے سارہ عول حانان. عدار ایک ایک. مری گہ ..ہم پشتون ایک زات ھے. اور پونجاب دوسرے زات ھے بھت پرق ھے ...

Author — Qader Khan

Author

Durand Line treaty is null and void because one party to the agreement was a foreign occupier and has long gone. The unity of Pashtun nation is vital for its survival. To restore the dignity of Pashtun nation Punjabi hegemony must be resisted.

Author — Iftikhar Ahmad

Author

Your intro is too long. Get to the point.

Author — Iftikhar Ahmad

Author

Stop midr fouck. .مدرچوتوں. انشااللہ نھے ریھنگہ ہمارہ بوڈر

Author — Qader Khan

Author

Wifaq ka drama ab khatam honay wala hay.

Author — Tariq Jan

Author

سب مسائل کی زمہ دار اسلام آباد ہے
اسلام آباد کی قول او فعل میں تضاد ہے کہتے ہیں کہ پختون پنخابی سندهی سرائکی بلوچ بلتی برابر ہے لیکن عملی طور پختونخوا بلوچستان کی ساتھ ناانصافی کرتا ہے
پاکستان کی مغربی حصہ پختونخوا بلوچستان پس ماندہ ہیں
اور مشرقی حصے میں ترقی یاتی کام ہورہا ہے خاص کر سیپک کی حوالے سے
اسلام آباد CHINA PAKISTAN ECNOMIC CORRIDOR کو CHINA PUNJAB ECNOMIC CORRIDOR بنایا
اسلام آباد کو چاہیے کہ پختونخوا بلوچستان کی ساتھ انصاف کرو

CPEC

CENTRAL

PUNJAB

ECNOMIC

CORRIDOR

سیپیک ایک ہاتهی کی مانند تها نواز لیگ نے اس کو صرف وسطی پنجاب کو نوازا سیپیک کی 9 بڑے اجزاء میں سے 6 مشرقی روٹ پر زیر تعمیر ہے ان میں بجلی کی نئے منصوبے ٹرانسمشن لائن ایل این جی پائپ لائن اپٹک فائبر میٹرو ٹرین موٹر وے

(A) UNDER CONSTRUCTION MOTOR WAYS
ان میں کچھ سیپیک کی فند سے اور کچھ ایشیا ترقیاتی بنک کی فند سے
( 1 ) LAHORE ABDUL HAKIM MOTOR WAYS

یہ موٹر وے لاہور عبدلحکیم کی درممیان ہے اس کی کل لمبائی 230 کلومیٹر ہے یہ مو ٹر وے ننکانہ صاحب جڑانوالہ سمندری پیر محل سے ہوتا ہو عبدالحکیم کی مقام پر ملتان پنڈی بھٹیاں موٹر وے کی ساتھ مل جاتا ہے زیر تعمیر ہے

( 2) PINDI BHATTIAN MULTAN MOTOR WAYS

اس کی کل لمبائی 286 کلومیٹر ہے یہ پنڈی بھٹیاں حافظ اباد ملتان کی درمیان ہے یہ موٹر وے پنڈی بھٹیاں سے براستہ فیصل آباد گوجرہ ٹوبہ ٹیک سنگھ شورکوٹ عبدالحکیم خانیوال سے ملتان تک ہے زیر تعمیر ہے

(3 ) MULTAN SUKKUR MOTOR WAY

اس کی کل لمبائی 387 کلومیٹر ہے یہ ملتان سے براستہ رحیم یار خان گهوٹکی سکهر تک ہے زیر تعمیر ہے

( 4 ) SUKKKUR HYDERABAD MOTOR WAYS

یہ سکهر اور حیدرآباد کی درمیان ہے یہ منظور ہوا ہے اس کی کل لمبائی 296 کلومیٹر ہے
(5 ) RATODERO GWADAR MOTOR WAYS

اس موٹر وے کی کل لمبائی 892 کلومیٹر یہ رهتوڈیرو سکهر سے،براستہ خضدار اواران ہوساب تربت گوادر تک ہے یہ صرف 4 اضلاع سے گزرتا ہے اگر اس کو ڈیرہ اسماعیل خان سے براستہ زوب کوئٹہ قلات پنجگور تربت گوادر تک تعمیر کیا ہوتا تو سارا بلوچستان سے مستفید ہوسکتاتها زیر تعمیر ہے

(6 ) HYDERABAD KARACHI MOTOR WAYS

یہ کراچی حیدر آباد کی درمیان ہے اس کی لمبائی 136 کلومیٹر ہے زیر تعمیر ہے

( 7 ) SIALKOT LAHORE MOTOR WAYS

اس کی کل لمبائی 89 کلومیٹر ہے اس سے نروال ڈسکہ سیالکوٹ لاہور سے منسلک ہوجائے گا اور اس اس کو مستقبل میں سیالکوٹ سے کهاریا گجرات تک ایکسٹینشن کا پروگرام ہے

( 8 ) HAKLA DERA ISMAIL KHAN MOTOR WAYS

اس کی کل لمبائی 280 کلومیٹر ہے یہ برہامہ بہتر سے براستہ فتح جنگ پنڈی گیهپ میاوالی یارک ڈیرہ اسماعیل خان تک ہے اس میں 230 کلومیٹر صوبہ پنجاب ہے اور 50 کلومیٹر پختون خوا میں ہے

( 9 ) HAZARA MOTOR
اس وقت اس کی لمبائی 60 کلومیٹر ہے یہ برہان سے براستہ جاری کس ہری پور حویلیاں تک ہے اور مستقبل میں اس کو تهاکوٹ تک بڑهانے کا پروگرام ہے

(B) POWER GENRATION PROJECT

CHINA PUNJAB ECNOMIC CORRIDOR Energy Projects List

ان Early Harvest Energy project میں 11720 میگاواٹ بجلی کی کل 15 منصوبے ہیں

ان میں سندھ 4870 میگاواٹ بجلی پیدا کرئگا ، پنجاب 4360 میگاواٹ بجلی پیدا کرئگا بلوچستان 1620 میگاواٹ بجلی پیدا کرئگا پختونخواہ 870 میگاواٹ بجلی پیدا کرئگا یہ 11720 میگاواٹ بجلی سیپک ابتدائی منصوبوں کی بات کرتا ہو

پنجاب
ان 11720 میگاواٹ بجلی میں سے 9230 میگاواٹ بجلی کیلئے ہے ان میں 4000 میگاواٹ بجلی سندھ سے پنجاب کو لائیگا 870 میگاواٹ پختونخواہ سے لایئگا

سندھ
ان 11720 میگاواٹ بجلی میں 2190 سندھ کیلئے ہے

بلوچستان
ان بجلی میں 300 میگاواٹ گوادر بلوچستان کیلئے ہے

CPEC ENERGY PROJECTS LIST

SINDH
1)
Port qasim coal power project electricity production 1320 mega watts
2)
Thar 1 coal power project electricity production 1320 mega watts
3)
Thar 2 coal power project electricity production 1320 mega watts
4)
UEF wind farm electricity production 100 megawatts
5)
Dawood wind farm electricity production 50 megawattSachal wind farm electricity production 50 megawatts
6)
Sachal wind farm electricity production 50 megawatts
7)
Sunnec wind farm electricity production 50 megawatts
8)
Thar engro coal power project electricity production 660 megawatts

PUNJAB

9)
Sahiwal coal power project electricity production 1320 mega watts
10)
Rahim yar khan coal power project electricity production 1320 mega watts
11)
Quaid e Azam solar park electricity production 1000 megawatts
12)
Karot hydropower project electricity production 720 megawatts

BALUCHISTAN

13)
CHINA POWER HUB GENERATION electricity production 1320 mega watts
14)
Gwadar coal power project electricity production 300 megawatts
PAKHTUNKHWA
15)
SUKI KINAR HYDRO POWER PROJECT electricity production 870 mega watts

(C) POWER TRANSMISSION LINE

(1) MATIARI TO FAISAL ABAD TRANSMISSION LINE

(2) MATIARI TO LAHORE TRANSMISSION LINE

(D)
LNG
ایل این جی پائپ لائن یہ پائپ لائن گوادر سے نواب شاہ تک ہے

(E) OPTIC FIBER

یہ پراجیکٹ کاشغر سے گوادر تک ہے

(F) ORANGE METRO TRAIN
یہ 27 کلومیٹر لمبا میٹرو ٹرین منصوبہ لاہور میں زیر تعمیر ہے

TAIL
سیپیک میں اس وقت ایک منصوبہ باقی ہے PESHAWAR TO KARACHI ریلوے جس پر ابهی کام شروع نہیں ہوا وفاق کا ارادہ ہے کہ اس کو بهی مشرقی روٹ یعنی پشاور سے براستہ راولپنڈی لاہور ملتان کراچی تک تعمیر کریں
حالانکہ پشاور سے براستہ لاہور کراچی تک پہلے سے ایک جی ٹی روڈ دوسرا ریلوے موجود ہیں اور تیسرا موٹر وے زیر تعمیر ہے

اس RAIL WAY LINE کا اصل ضرورت اور حق پشاور سے براستہ کوہاٹ بنو ڈیرہ اسماعیل خان ژوب قلعہ سیف اللہ کوئٹہ مستونگ قلات سوراب ،،،،،بسیمہ ناگ پنجگور تربت گوادر تک
کیونکہ پختون خوا بلوچستان پس ماندہ علاقے ہیں اور دوسرا یہ راستہ مختصر ہے

##

Author — پختونخوا بولان چترال

Author

جمعہ حان کا راگوں می راجپوت کا حون ھے .ماں کا کوی پتہ نھے. جو ھیرہ منڈیی سے ھے

Author — Qader Khan

Author

Contries belongs to people nd it's people to decide which side thy wana go

Author — khanji Khan

Author

Just type treaty of Rawalpindi on Google you will find the facts of Afghanistan creating move

Author — Jehangir Khan

Author

قصہ دو بھائیوں کا گل خان اور گل مرجان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو بھائی تھے بڑے کا نام گل مرجان اور چھوٹے کا نام گل خان تھا۔
گل خان بچپن سے بہادر ،نڈر اور غیرت مند تھا۔ گل خان کو اپنے بڑے بھائی سے بہت پیار تھا ۔ جبکہ گل مرجان پیسوں کیلئے کچھ بھی کرسکتا تھا
گل خان کو اس وقت بہت بڑا دھچکہ لگا جب گل مرجان نے گل خان کو پیسوں کی خاطر ایک انگریز ڈریونڈ کو فروخت کر ڈالا۔
گل خان بہت غمگین ہوگیا اور اس نے ہمت نہیں ہاری اور آزادی کیلئے جدوجہد شروع کی ۔گل خان کے بیٹے حاجی مرزاعلی اور عجب خان افریدی وغیرہ بڑی بہادری سے لڑے اور آزادی حاصل کی اور گل مرجان سے مکمل الگ ہوگیا۔
پھر بھی گل خان کے دل میں اپنے بڑے بھائی کیلئے محبت تھی اور خیال تھا کہ اگر اپنا نہیں آزاد تو تسلیم کر ہی لے گا اپنا گل مرجان بھائی ۔۔پر گل مرجان نے ایسا نہیں کیا جس سے گل خان اور بھی دکھی ہوگیا۔
وقت گزرتا گیا تو گل خان نے اپنے دوسرے منہ بولے بھائیوں سندھ ،پنجاب اور بلوچستان کیساتھ بہت ترقی کرلی ۔ جس سے گل مرجان کو جلن ہوگیا اور گل خان کو کہا آؤ میرے ساتھ شامل ہوجاؤ ۔کیونکہ گل مرجان لالچی تھا، مگر گل خان نے صاف انکار کردیا ۔جس سے گل مرجان اور اس کے بیٹوں نے گل خان کے علاقے باجوڑ اور مہمند پر حملہ کیا اور گل خان کے سینکڑوں بچوں کو شہید کئے۔ گل خان چونکہ دل کا اچھا تھا اس نے صبر کیا ۔
پھر گل مرجان کو گل خان کی ترقی ہضم نہ ہوئی اور علاقے کا طاقتور بندہ روس کو بلایا تاکہ گل خان کو پکڑ سکے اور اس کے جائیداد پر قبضہ کرسکے۔
لیکن الٹا روس گل مرجان پر بھاری پڑگیا اور اس کے لاکھوں بچوں کو شہید اور بے گھر کئے۔گل خان نے پھر بھی بھائی چارے کا مظاہرہ کیا اور گل مرجان کے لاکھوں بچوں کو پناہ دی اور گل نے بہادری کیساتھ روس کا مقابلہ کیا اور بھاگا کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔کیونکہ گل بچپن سے بہادر تھا۔
وقت گزتا گیا گل خان نے گل مرجان کے بچوں کو اپنے بچے سمجھے۔ انھیں پڑھایا، لکھایا اور جگہ دی ۔ گل بھی ترقی کرتا گیا۔ بڑے بڑے یونیورسٹیاں جیسا کہ پشاور ،بنوں ،کوہاٹ، ہزارہ ، اورملاکنڈ یونیورسٹیاں بنائی۔بڑے بڑے کالج اور ہسپتال بنائے ۔اور یہ سب سہولتیں گل مرجان کے بیٹوں کیلئے میسر تھی۔
پھر اپنے کارتوتوں کیوجہ سے دنیا کا بڑا پاور امریکہ گل مرجان پر قبضہ ہوگیا ۔ گل خان نے امریکا کا ساتھ تو دیا مگر بھائی ہونے کے ناطے اس کی ساری ہمدردیاں گل مرجان کیساتھ تھی اور امریکہ کو بہت نقصان پہنچایا ۔
گل مرجان لالچی تو تھا ہی نمک حرام بھی نکلا اور امریکی حملے کا ا لزام گل خان پر لگایا ۔حالانکہ امریکہ خود تسلیم کرتا ہے کہ گل خان نے ہم کو بہت نقصان پہنچایا۔ اور گل مرجان خود امریکہ سے روزانہ ڈالر کھاتا ہےاور تو اور اسکے بچے بھی نمک حرام نکلے ۔
اب گل خان نے مکمل فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ کبھی بھی گل مرجان کو اپنا بھائی تسلیم نہیں کریگا اور گل مرجان سے مکمل الگ ہونے کیلئے باڑ لگا رہا ہے۔
لیکن پھر بھی گل مرجان امریکہ کیساتھ ملکر روزانہ گل خان کے بیٹے کو شہید کرتے ہیں اور گل خان کے بڑے دشمن بھارت کو اپنے گھر بلا کر گل خان کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے
گل خان بھائی ہونے کے ناطے چپ ہے لیکن اگر دماغ گھوم گیا تو گل مرجان کو نقشے سے مٹا دیگا۔
ابھی بھی وقت ہے گل مرجان کے پاس سمجھنے کیلئے۔ کیونکہ گل خان اب دنیا کی طاقتوار ترین لوگوں میں شمار ہوتا۔
نوٹ: مہربانی کرکے اس پیغام کو کاپی کرکے ہر پیج پر کمینٹ کریں شکریہ پاکستان
zahid ullah wazir

Author — Jehangir Khan

Author

سوات میں عید پہ بارا لاکھ سیاح آئے پاک فوج اور عوام ساتھ ساتھ؛؛؛
وزیرستان میں پی ٹی ایم نے انتشار پیدا کر دیا ہے مگر ھم 99فیصد پشتون فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر حب الوطنی کا ثبوت دیں گے اور اسرائیل انڈیا امریکہ کی پراکسی وار ٹول کی بینڈ بجا دیں گے

Author — Jehangir Khan

Author

کراچی اور گوادر میں ھوٹل پہ حملہ کرنے والے بھی مسنگ پرسن دہشت گرد تھے؛
اسلم اچھو بھی لا پتہ افراد میں شامل تھا اور افغانستان میں مارا گیا؛
بی ایل اے بی آر اے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد فراری گروہ جو آپریشن سے بھاگ کر افغانستان میں انڈین دستر خوان سے ٹکڑے کھا کر ریاست پاکستان کے مفاد کے خلاف اقدامات کی ترویج کرتے ہیں وہ بھی مسنگ پرسن کی لسٹ میں شامل ہیں سو حقائق سامنے لاو اور کلبھوشن کے منہ بولے بڑبوتے افغان مت بنو شکریہ

Author — Jehangir Khan

Author

دالا صاحب. میکناٹن کا ھیسٹر توڑہ بتوہ. جنگ. کابل کا توڑہ زیکر کرلوہ ....اور تیرہ باپ. انگریز کیوں باگیا بینچوت کا بچی

Author — Qader Khan

Author

وزیرستان سے بھارتی ساختہ بم کیوں برآمد ھو رہے ہیں؟؟؟؟
افغانستان کی حکومت گریٹر افغانستان اور پشتونستان کے نقشوں پہ منظور پشتین کی تصاویر بنا کر سرکاری اور عوامی مقامات پر کیوں لگا رہی ہے؟؟؟؟
پی ٹی ایم کی پشت پر امریکہ انڈیا اور اسرائیل کی پالیسی وار لابی کی مدد کس کا ایجنڈا ہے؟؟؟؟
پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف غیر ملکی بیانیہ پی ٹی ایم کا مشن کیوں ہے؟؟؟؟

Author — Jehangir Khan

Author

Just type role of PAK army in fata and balochistan reforms on Google you will find the facts so don't create anti Pakistan 5th generation war fare eganda under the umbrella of US India and Israel with the help of Afghan poppies

Author — Jehangir Khan

Author

ہم پشتونوں کو بلکل بی پاکستان کے ساتھ نہی رہنا چاہیے

Author — R.K afridi

Author

Pakistan is a fake country just angerez ke awlaad, Pashtunistan is part of Afghanistan 🇦🇫 Pashtuns we’ll be united one..

Author — Khoshal-khan

Author

گلگت چترال کوہستان ہزارہ مانسہرہ یہ علاقے خیبر پختون خواہ میں شامل کئیے گئے ہیں یہ علاقے خیبر پختون خواہ کے نہیں ہیں ان کو چھوڑ کر جو افغانستان کا علاقہ ہے آگر یہ لوگ اپنی خوشی سے افغانستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو ویلکم پنجاب سندھ کراچی بلوچستان تک جتنا افغانی یا پختون پھیلا ہوا ہے ان کا سامان تورخم باڈر تک پہچانے میں ہم تمام پاکستانی ان کی مدد کریں گے لیکن ان جاہل افغانیوں کے ساتھ تو ان کے اپنے افغانی پاکستان کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے جہاں تک میری معلومات ہے سو میں سے دو پختون ایسے ہونگے جو افغانستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہونگے باقی آٹھانویں پرسنٹ پختون افغانستان اور افغانیوں سے نفرت کرتے ہیں

Author — iftekhar juniur

Author

Those who seek puktunitain are worst enemies of Puktuns . They will not get it.But they will make it Iraq or Syria.Muslims are worst tools of enemies.

Author — Abdul rahman Wani

Author

جمعہ حان صاحب کا تعلق صوابی سے ھے کٹر نیشنلسٹ ھے خدائی خدمتگار تحریک سے تعلق رہا ھے وہ اج بھی دل سے قوم پرست ھیں زاتی وجوہات کی بنا پر پارٹی سے ناراضگی ھے اسکی وجہ سے کتاب لکھ ڈالی ھے کتاب انکی ذاتی حیالات کا اظہار ھوسکتی ھے حقیقت سے تعلق نہیں صوفی صاحب کا ٹکٹ نہ ملنے کا شکوہ ھوسکتا ھے

Author — ISRAR MUHAMMAD KHAN YOUSAFZAI OF SHEWA